ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مفرور گھوٹالہ باز وں کی جائیداد ہوگی ضبط ،آرڈیننس 2018کو کابینہ کی منظوری:ذرائع

مفرور گھوٹالہ باز وں کی جائیداد ہوگی ضبط ،آرڈیننس 2018کو کابینہ کی منظوری:ذرائع

Sun, 22 Apr 2018 00:49:35    S.O. News Service

نئی دہلی،21اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اقتصادی جرائم کرکے ملک چھوڑ کر بھاگنے والے مجرموں کی جائیداد اب ضبط کی جا سکے گی۔ذرائع کی مانیں تو پی ایم مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں آرڈیننس کی منظوری مل گئی ہے۔صدر کی رضامندی کے بعد اس پر مہر لگ جائے گی۔غور طلب ہے کہ لوک سبھا میں 12 مارچ کو بھگوڑے اقتصادی مجرم بل 2018 پیش کیا گیا تھا، لیکن پارلیمنٹ میں ہنگامے کی وجہ سے یہ بل پاس نہیں ہو پایا. وجے مالیا اور نیرومودی جیسے معاملے سامنے آنے کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ لیا تھا۔آرڈیننس کی فراہمی ان اقتصادی مجرموں پر نافذ ہوں گے، جو قرض لینے کے بعد ملک واپس لوٹنے سے انکار کرتے ہیں، جن کے خلاف مقرر جرم کے لئے گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا ہے اور جو 100 کروڑ روپے سے زیادہ کے بقایا کے ساتھ لون ڈپھلٹرس کی لسٹ میں شامل ہیں۔اس تجویز کے تحت بغیر کسی اجازت کے مجرموں کی جائیداد ضبط کرکے اور انہیں بیچ کر قرض دہندہ کو ادا کیا جا سکے گا۔ایسے اقتصادی مجرموں کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے )کے تحت مقدمہ چلے گا۔بھگوڑے اقتصادی مجرم وہ شخص ہیں جو استغاثہ کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور واپس آنے سے انکار کر رہے ہیں۔آرڈیننس کی فراہمی ان اقتصادی مجرموں پر نافذ ہوں گے، جو قرض لینے کے بعد ملک واپس لوٹنے سے انکار کرتے ہیں ۔آرڈیننس کے مطابق، ڈائریکٹر یا ڈپٹی ڈائرکٹر (پی ایم ایل اے 2002کے تحت مقرر)اسپیشل کورٹ کے سامنے کسی شخص کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دینے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔اس مطالبات میں اس بات کی بھی دلیل دینی ہوگی کہ اسے مفرور اقتصادی مجرم کیوں قرار دیا جائے۔اس مطالبات کے بعد اسپیشل کورٹ اس شخص کو نوٹس جاری کرکے 6ہفتے کے اندرپیش ہونے کے لئے کہے گا اگر وہ شخص کورٹ کے بتائے وقت پر پیش ہو جاتا ہے کورٹ اس بھگوڑے اقتصادی مجرم قرار دینے کی مانگ کو مسترد کر دے گا۔بتا دیں کہ مرکزی کابینہ میں اس کے علاوہ 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے ریپ کے قصورواروں کو موت کی سزا دینے کی منظوری دے دی۔اس کے لئے جلد ہی آرڈیننس جاری ہوں گے۔اس کی منظوری کے لئے اب صدر کے پاس بھیجا جائے گا۔کابینہ نے ریپ کے معاملات میں جلدتحقیقات اور سماعت کی میعاد بھی طے کر دی ہے۔


Share: